سیکس سٹوری شادی شدہ مرد کی پارٹ تھری

(sex-story-shadi-shuda-mard-ki-part-3)

This story is part of a series:

Sex story jab shadi k baed bevi sae dil bhar geya hamsai sae muhabat hoi phir kia hoa janee

میں نے اب چینل بدل دیا کہ شاید بات بدل جائے۔ مگر خالدہ نے ناراضگی سے منہ موڑ لیا اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لی۔ میں نے اس کے بدل کو سہلانا شروع کر دیا۔ اس کے پستان پر ہاتھ رکھا تو اس نے میرے ہاتھ کو جھٹک دیا۔

میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا، کافی دیر تک اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے کے بعد جب میں نے اس کے پستان کو پکڑا تو مجھے شیزا یاد آگئی۔ ایک سیکنڈ میں میرا لن تن گیا۔ خالدہ نے ایک دو بار مجھے منع کیا مگر میں کہاں رکنے والا تھا۔

لن کو اپنے ہاتھ میں تھام کر خالدہ کی شلوار اتاری اور اسے گانڈ میں گھسانے کی لیے تیار ہی تھا کہ وہ اٹھ بیٹھی۔ اس نے سختی سے مجھے منع کیا۔ مجھ سے صبر نہیں ہو رہا تھا، میں اس کے بدن سے لپٹ گیا، اس کے چہرے اور گال کو تھام کر چومنے لگا۔

مگر وہ مجھ سے دُور   ہی ہٹتی گئی اور یوں وہ بستر سے اتر کر میرے سامنے کھڑٰ ی ہو گی۔ اس نے کچھ کہے بغیر کمرے کا دروازہ کھول دیا اور  خاموشی  سے بچوں کے پاس چلی گئی۔ جبکہ میں بے قراری کی حالت میں بیٹھا رہا۔ پھر مجھے شیزا یاد آگئی، میں نے تصور کیا کہ وہ میرے پاس ہے اور میں اس کے جسم کو سہلا رہا ہوں۔ یوں رات کی نیند پوری ہوئی۔
خالدہ نے اگلی صبح  اچھا سا ناشتہ تیار کیا اور مجھے بتایا کہ آج بچوں کو سکول سے لے آنا  ہے میں اپنی باجی کے گھر جارہی ہوں۔ اس کی باجی شہر میں رہتی ہے۔ شہر میرے گاوں سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں نے اس کی بات ان سنی کر دی اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

بچے سکول کے لیے تیار ہوئے تو انہیں سکول چھوڑ کر واپس آیا۔ سنسان گھر میں میری بے قراری کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ میں نے کمرے میں بیٹھ کر ٹٰی پر فلم دیکھنا شروع کر دی۔ دن کے دس بج چکے تھےاور باہر ٹھنڈ تھی۔ اتنی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی تو میں کمرے سے نکل کر دروازے تک آٰیا۔ دروازہ کھولا تو  سیکسی شیزا کھڑی تھی۔
وہ بغیر پوچھے اندر چلی آئی۔ میں نے دروازہ بند کر دیا اور اس کے پیچھے پیچھے صحن تک آگیا۔ صحن میں کھڑے ہو کر اس نے پوچھا، باجی کہاں ہےیہ سوال پوچھتے ہی وہ  پھر سے جھجک گئی جیسے وہ شکار بن چکی ہو اور جلد ہی  کسی کی قید میں چلی جائے گی۔ میں نے کہا کمرے میں لیٹی ہوئی ہے، طبیعت خراب ہے۔
وہ کمرے کی طرف چل پڑی۔میں بھی اس کے پیچھے تھا۔ جب وہ کمرے میں پہنچی تو میں نے کمرے کا  اچھی طرح دروازہ بند کیا اور ایک آن میں شیزا کو پیچھے سے پکڑ لیا۔ وہ بہت ہی دھیمی اواز میں چلائییہ کیا کر رہے ہو
میں نے کوئی جواب دیے بغیر اسے جھپٹی ڈال رکھی تھی اور وہ مجھے کہہ رہی تھی مجھے چھوڑو میں باجی کو بتا دوں گی کمینے انسان  مگر میں اسے کیسے چھوڑ دیتا۔ میری ہوس تو عروج پر پہنچ چکی تھی رکنے کا نام نہیں تھا

اس کا بھرا ہوا جسم ، نرم نرم گانڈ کو میرا لن چھو رہا تھا۔ میں مستی سے بے قرار تھا جبکہ وہ مجھ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں نے اس کے پستان پر ایک ہاتھ رکھ دیا اور سختی سے اسے بزور کے ساتھ دبا لیالیا مگر وہ مسلسل کوشش کرتی رہی اور کہتی رہی کہ مجھے چھوڑ دو۔ لیکن عورت کو رام کرنے کا ایک نسخہ ہے، وہ نسخہ بروقت میرے دماغ میں آیا۔

میں نے اپنی انگلی کو منہ میں ڈالا اور پھر اس انگلی کو شیزا کی قمیض کے اندر سرکا دیا۔ وہ جان چھڑانے کی کوشش کرتی رہی، اس میں طاقت تھی اور وہ پھرتی سے مجھے پیچھے دھکیل رہی تھی۔ میں نے انگلی کو زور سے جنبش دی اور اس کی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال دیا تھا

اب جونہی میری انگلی اس کی پھدی کے درمیان اتری، وہ چلا اٹھی، بے غیرت، چھوڑ و مجھے۔ مگر اب چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ میں نے پھدی کے درمیان میں انگلی پھیرنی شروع کر دیا اور وہ میرا ہاتھ اپنی شلوار سے باہر نکالنے کی ناکام کوشش کرتی رہی شائد اوپر سے

چند سیکنڈ کے بعد اس کی کوشش ڈھیلی پڑ گئی اور میرے انگلی نے اس کی پھدی سے نکلنے ہوئے پانی کو محسوس کیا۔ یہی وقت تھا: میں نے شیزا کو بیڈ پر گرا دیا اور اس کے اوپر لیٹ کر اس گردن اور کو چومتا رہا جبکہ ایک ہاتھ سے اس کے ممے دبارہا تھا۔

وہ بے حس پڑی ہی۔ اب وہ بالکل بھی کوشش نہیں کر رہی تھی۔ اب وہ جان چھڑانے کی کوشش ترک کر چکی تھی۔میرا لن تن چکا تھا۔ شیزا میرے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی گانڈ پر میرا لن رقص کر رہا تھامیں  نے اس کی شلوار اتارنی چاہی تو اس نے کہا: ’’کوٗی آجائے گا‘‘۔

بغیر جواب دیے میں نے شلوار کو گانڈ کے نیچے تک سرکا دیا اور اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر جنبش دینے لگا۔ مجھ سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔میں چاہتا تھا کہ اس کے پستان ننگے کروں اور انہیں اپنے منہ میں لے کر کچھ دیر کے لیے سو ہی جاو ں مگر اتنا وقت نہیں تھا

وہ کسی بھی لمحے جان چھڑا کر بھاگ سکتی تھی۔ شاید وہ اسی لیے بھاگنے کی کوشش ترک کر چکی تھی تاکہ میں بھی اسے موقع دوں اور وہ نکل جائے۔ لیکن ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ میں نے اپنا لن اس کی سیکسی بونڈ پر ٹکائے رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے بدن کو سہلاتا رہا۔ اسی دوران میں نے اپنے لنڈ پر تُھوک لگایا اور لن کو اس کی گانڈ میں عین نشانے پر رکھ کر ایک زور دار دھکا دیا۔

Sex story jab bevi sae bae wafai ki hamsai ki gand mari woo rooti rahi mae chodta raha

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top