پاکستانی سیکس سٹوری ہمسائی کو ٹیوٹر بن کے چودا۔ پارٹ ون

(pakistani sex story hamsai ko tutor ban k choda part one)

Pakistani sex story hamsai ki phudi lena acha experience tha

پاکستانی سیکس سٹوری میں ہے نئی ہمسائی کی چدائی کہانی اس کو پوسٹ کرنے لگا ہوں پاکستانی سیکس سٹوری کے فورم اور چاہنے والوں کے لیئے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی سیکس سٹوری کے فین دن رات ایسی ہی گرم کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں

ایک لڑکی جس کا نام سونیا  ہے، ہمارے گھر کے سامنے اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہے. عمر کوئی ہوگی  انیس بیس سال کے قریب، چھوٹی چھوٹی چوچیاں، پتلی کمر، گلابی ہونٹ اور چوتڑ چوت تو سمجھو قیامت اور اسکی مست گھیلی چوت. ابھی ہمیں نئے گھر میں آئے ہوئے چار دن ہی ہوئے تھے میں سوچ رہا تھا کہیں مجھ کو نئی پیاری سی دوست مل جائے تو مزہ ہی آجائے گا چود چود کے پاکستانی سیکس سٹوری بنا دونگا

میں نے دیکھا کہ وہ میری طرف دیکھ رہی تھی. میں نے اس دن اس کو پہلی بار دیکھاکیا بتاو کیا دل کا حال ہوا تھا بس میرا تو سمجھو لنڈ پورا اکڑ گیا. من کیا کہ سالی کو ابھی پٹخ کر چود دوں پر میں چاہتا تھا

کہ پہل وہی کرے تو مزید اچھا رہے گا. میں بائیس سال کا سمارٹ لڑکا ہوں، اچھی اچھی لڑکیاں مرتی ہیں میرے اوپر بس اس دن تو میں جیسے تیسے آفس چلا گیا تو وہ بعد میں میرے گھر آئی، میری ممی سے ملی اور پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ کیا کرتے ہو؟ اور میرے بارے میں بھی پوچھا.

آپ کو بتا دوں کہ میرا خود کا بزنس ہے كراكری ایکسپورٹ کا. میں صبح دس  بجے آفس جاتا ہوں اور رات کو سات آٹھ بجے آتا ہوں  ہفتہ اور اتوار میری چھٹی ہوتی ہے اگلے دن ہفتہ تھا تو وہ سکول نہیں گئی شاید اسے ممی نے بتا دیا تھا کہ میں ہفتے کو گھر پر ہی رہتا ہوں. جب میں سات بجے سوکر اٹھا تو بالکونی کی طرف آیادیکھا کہ وہ کھڑی تھی

میری طرف دیکھتے ہی اس نے گردن ہلا کر مجھے ہیلو کیا اور میری طرف ایک منٹ میں آنے اشارہ کر کے چلی گئی. یقین کریں میرا تو لن اسی وقت انگڑائی لینے لگا تھا میں سوچنے لگا کس قدر بولڈ مست لڑکی ہے اس کو چودنے کا موقع ملا تو میں  اپنی چدائی کہانی کو اپنے پاکستانی سیکس سٹوری فین کو ضرور شیئر کرونگا
میں دیکھتا رہا اچانک دیکھا تو وہ میرے گھر پر ہی میرے پیچھے کھڑی تھی. اچھا ہوا کہ اس وقت ممی وہاں نہیں تھی بازار چلی گئی تھی. میں نے اس سے پوچھا  جی ہاں بتائیے تو وہ کہنے لگی

  آپ میری طرف دیکھ رہے تھے نہ تو میں نے سوچا کہ جا کر ہی مل لوں. میں نے کہا  پلیز، آپ یہاں سے چلی جاؤ کہیں کسی نے دیکھ لیا تو پریشانی ہو جائے گی. وہ بولی  او کے بابا چلی جاؤں گی، تم کیوں اتنا ڈر رہے ہو؟
پھر بولی اچھا تمہارا نام خرّم  ہے نا؟ اور تم بزنس کرتے ہو اور تمہاری شادی بھی نہیں ہوئی ہے ابھی تک کیا تمہارا شادی کرنے کا دل نہیں کرتا؟تو میں نے غصے سے کہا  تمہیں اس سے کیا مطلب؟ کیونکہ مجھے ڈر لگ رہا تھا، ابھی چار دن ہوئے تھے محلے میں آئے ہوئے. وہ بولی  پلیز، میرا ایک کام کرو گے؟

اس کی آنکھوں میں معصومیت کی جھلک رہی تھی تو میں بھی پھنسل گیا اور بولا  بولو، کیا کام ہے؟ تو وہ بولی  میں نے سنا ہے کہ آپ کی انگلش بہت اچھی ہے لیکن میری بہت کمزور ہے.

اگر آپ مجھے تھوڑا بہت پڑھا دیا کریں تو آپ کا احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوگی.
تو میں نے کہا  اس میں احسان کی کیا بات ہے، اگر تمہارے گھر والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہے تو مجھے بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی تم روز رات کو آٹھ بجے آ سکتی ہو. اس نے مجھے شکریہ کہا

تو میں نے سوچا کہ موقع ہے گھیرو چوکا مار دو اور بول دیا  دوستی میں نو سوری نو تھینکس وہ مسکرائی اور جانے لگی، اس وقت میری ممی بھی بازار سے آ گئی. اور اس سے پوچھ ہی لیا  ہاں بیٹی کیسے آئی تھی

ممی کو شک تو ہو رہا تھا، بس میں فورا اپنے کمرے میں چلا گیاپر اس نے خود ہی ممی کو بول دیا کہ میں آج سے شام کو آٹھ بجےسے اسے پڑھانے والا ہوں کیونکہ اس کی امتحان قریب آ رہے ہیں،

اور اسے کوئی انگلش کا اچھا ٹیچر نہیں مل رہا ہے
میں نے بھی چپکے سے سن لیا. میں بھی دل ہی دل خوش ہونے لگا. اس دن آفس میں بھی کام میں دل نہیں لگا. اب اتنی خوبصورت لڑکی اور وہ بھی نئی، تو بھلا کس کا دل کرے گا کام کرنے کا اور میں آفس سے سات بجے ہی آ گیا
ممی نے کھانے کو پوچھا تو میں نے بولا  ابھی نہیں تھوڑا بعد كھاوں گا
بس آٹھ بجے اور وہ آ گئی اپنی کتابیں لے کرتو میں نے اسے بولا کہ پڑھائی ہمیشہ تنہائی میں ہی ہوتی ہے اور اپنے کمرے میں آنے کو کہا. بس وہ میرے پیچھے پیچھے آ گئی. اب وہ اور میں میرے بستر پر بیٹھ گئے. اس نے اپنی کتاب کھولی اور پوچھنے لگی یہ کیا ہوتا ہے، وہ کیا ہوتا ہے.
میرا کہاں دل کر رہا تھا پڑھانے کا میں تو بس اس کی طرف دیکھتا ہی جا رہا تھااس نے پوچھا  کیا دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے کہا  تمہارا چہرہ پڑھ رہا ہوں کیونکہ میں ایک سائیكولوجسٹ ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ تمہیں کوئی نہ کوئی پریشانی ضرور ہے میں تو اس کو چودنے کا پلان بنا چکا تھا اور شروعات کر دی تھیں پٹانے کی
تب وہ خوش ہو گئی اور بولی  آپ کو کیسے پتہ؟ اور بتاو نا کچھ تو میں نے بھی سوچا کہ موقع اچھا ہے اور بولا  لگتا ہے تمہیں کسی کی کمی تڑپاتی ہے اپنی زندگی میں تو وہ بولی

  ہاں اور تمہیں شاید کوئی اچھا دوست نہیں ملا جس سے تم اپنے دل کی باتیں کر سکو
تو اس نے ہاں میں سر ہلایا اور اداس سی ہی گئی اور بولی  کچھ اور بھی بتاؤ ناتو میں نے کہا  لاؤ تمہارے گالوں کی لکیریں دیکھتا ہوں کیا کہتی ہیں اور اس کے گالوں کو چھو  چھو کر دیکھنے لگا۔ مزید اگلی قسط مٰں بتاونگا اور اسی فورم پاکستانی سیکس سٹوری میں پوسٹ کرونگا۔

Pakistani sex story mae mera bara lun chudai laga laga k howa tha

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top