169سیکس کی پجارن سکسی دوشیزہ کی انوکھی داستان۔ قسط نمبر

اسے نہ ہاتھ لگا لڑکی میں نے اس کے ہونٹوں کو کس کرتے ہوئے کہا کیوں میری جان میں اس لن کے بے جان بدن میں ابھی جان ڈالتی ہوں اور شلراگ کا  عجیب سالن اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی مجھے ایسے لگا جیسے میں نے برف کا ٹکڑا اپنے منہ میں لے لیا ھو وہ اب  سکسی مدھو کی طرف دیکھنے لگا تھا بھیما اب مدھو کی سکسی چوت پر آ بیٹھا تھا

اور بھیما نے اپنی لمبی  زبان اب مدھو کی سکسی چوت پر پھیرنی شروع کی اور مدھو مزے سے سسکیاں ہی لئے جا رہی تھی  اب بھیمانے ایک دم سے تیزی کے ساتھ اپنی زبان مدھو کی سکسی  چوت کے سوراخ پررکھی اور پھر اس کی زبان پھرتی سے لپک کر مدھو کی چوت میں گھم ہو گئی اور مدھو کے جسم کو زور زور سے جھٹکے لگنے لگی

مدھو کی سکسی چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا اب بھیما اپنی زبان سے مدھو کی چوت کو چود رہا تھا اور مدھو مسلسل چیخی جا رہی تھی اف ف ف ف ف م م م م م م مر گئی کیا کرتے ھو زبان سے ہائے ظالم تمہاری  اس کھردری زبان نے میرے جسم میں لذت کے دریا بہا دئیے ہیں  اف ف ف ف میں مر جاؤں کومل اسے کہو اپنی زبان نکل لے میری جن پر بن گئی ہے اب بھیما نے اپنی زبان باہر نکالی تو مدھو نے سکوں کا سانس لیا ہی تھا بھیما کی زبان اب تیزی سے ساری ہی مدھو کی سکسی چوت  میں گھسیڑ دی

اور مدھو اب تیزی سے اونچی آواز میں آہیں بھرنے لگی اس کی آواز میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا  آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف یاہ یاہ یاہ یاہائے م م م م م م م مر گئی اب بھیما تو پاگلوں کی طرح اس کی چوت میں اپنی لمبی زبان  کو گھمانے لگا تھا اور مدھو کے جسم کو اب وقفے قفے سے جھٹکے لگ رہے تھے بھیما پچھلے بیس منٹ سے لگا تار مدھو کی چوت کو زبان سے ہی چاٹ رہا تھا اور چود بھی رہا تھا اب تک مدھو کوئی پانچ دفعہ پانی چھوڑ چکی تھی

لیکن بھیما بنا رکے ویسے ہی لگا ہوا تھا پھر بھیما نے مدھو کی چوت میں اپنا دانے دار لن داخل کیا تو مدھو تو لذت سے اتنا تڑپی کہ وہ بیہوش ہی ھو گی تھی لیکن بھیما اسے ویسے ہی چودےجا رہا تھا  مدھو اب اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی وہ مسلسل درد اور مزے سے چلائی جا رہی تھی یاہ یاہ یاہ یاہ یاہ یاہائے ہائے ہائے یاہ یاہآہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف م م م م م م م میں مر گئی اور بھیما بنا رکے چودی جا رہا تھا اب  سکسی مدھو کبھی بے ہوش ہوتی اور کبھی ہوش میں آتے ہی سسکنے لگتی

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top