سکسی کزن کی باتھ میں آخری چدائی

میرا نام عظیم ہے میں لاہور  کا رہنے والا ہوں اور دبئی میں کام کرتا ہوں، اور سال میں دو بار گھر آتا ہوں اور دبئی میں ایک دکان پر کام  کرتا ہوں، میری شادی ہونے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ  میں اپنے گھر آیا ہوا  تھا شادی کے سلسلے میں میرے گھر میں زیادہ تر رشتے دار ہی رہتے تھے یہ  مجھے بہت عجیب لگتا تھا کے اپنے گھر میں ہی آزاد نہیں تھے۔ کیوں کے عورتیں تھیں اور پردہ بھی تھا اسی لئے ایک دن میں جب باہر سے   چکر لگا کر گھر آیا اور نہانے کے لئے اپنے کمرے کے باتھ روم میں چلا گیا اور باتھ روم میں جا کر نہانا شروع کردیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کمرہ آج صبح کو میری امی  نے میری ہونے والی سالی کو دے دیا تھا میں نہا رہا تھا۔ اکچر میں اپنے کمرے میں نہاتے ہوئے باتھ روم کی کنڈی لگانا بھول جاتا تھا ۔ اچانک باتھ روم میں میری کزن آ گئی اور مجھے ننگھا فل گھیلے صابن والے جسم میں دیکھا اسنے تو میں ایک دم سے دڑ گیا کے یہاں  کون آگیا اور اپنا  تولیہ باندھ کر کھڑا ہوگیا وہ ہنس کر کہنے لگی کے عظیم صاحب اپ نہا لو۔

پھر اس نے جانے کی کوشش کی تو میں نے اسکو پیچھے سے پکڑ لیا اور کہا کہ کہاں جا رہی ہو اب رک جاو نہ ہم پہلے بھی کتنا کرے رہے ہیں اور اب تم جا رہی ہو۔ شادی تھوڑی ہوئی ہے میری اور جب سے دبئی گیا ہوں تم اپنے سامنے والے گھر کے لڑکے کے ساتھ سکس کرنے لگ گئی ہو اسلیئے گھاس بھی نہیں ڈالتی مجھے۔ اس نے مجھے حیرانگی سے دیکھا اور کہا کہ کوئی آجائے گا چھوڑو مجھے تو میں نے اسکو کہا کہ میرے کمرے میں کوئی نہیں آتا تم کو پتہ ہے چلو آخری بار کر لو نہ پلیز مزہ آجائے گا اتنے عرصے سے میں نے کسی کے ساتھ کچھ نہیں کیا اور بعد میں شادی ہوجائے گی میری۔ پھر اسی دوران میں نے اسکی جوانی کے نرم گرم نارمل سکسی مموں کو کمیز کے اندر ہاتھ ڈال کر دبانا شروع کردیا اور وہ بھی مستی چڑھانے لگی-

اس نے  اپنی قمیض  تو اتاردی تھی کہنے لگی کے میرا فیگر تہماری بیوی سے زیادہ اچھا ہے اور کہا کہ میں تمہاری سکس کی خواہش پوری کر سکتی ہوں اب بھی تو شادی اس سے کیوں کر رہے ہو. میں خاموش کھڑا ہوا تھا وہ میرے  قریب آئ  اور مجھے ہونٹوں پر کس  کرنے لگی اور میرا تولیہ کھینچ کر میرے لن کو پکڑ کر ہلانے لگی میں بھی اسے کس  کرنے لگا اور اس کی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر اسکی پھدی میں ہاتھ لگانے لگا وہ بھی آہستہ آہستہ گرم ہو رہی تھی میں بھی فل گرم ہوچکا تھا پھر اس نے اپنی شلوار اتار کر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی پھدی پر مسلنے لگی میں بھی اسکی پھدی مسلنے لگا اور اس کے ممے دبانے لگا وہ فل گرم ہو کر مرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی میں ڈالنے لگی.

میں نے پھر اسکو جلدی سے پورا ننگھی جوانی کو سہلاتا ہوا اسکی تانگوں کو اٹھایا اور اسکو اپنی گود میں اٹھا کر نیچے سے لنڈ کو ایک ہاتھ سے اسکی جوان گرم پہلے سے چدی پھدی میں جھٹکا دیا اور مرا لن اس کی پھدی کو چیرتا  ہوا اندر چلا گیا . اس کو بہت درد ہوا کیوں ہ میرا لنڈ بڑا تھا اور وہ بہت ٹائم کے بعد میرا لنڈ لے رہی تھی لیکن میں نے کوئی فکر نہ کی اور اس کو چودتا رہا. اس کو بھی مزہ آنے لگا اور وہ درد بھول گئی اور مست ہو گئی اور مجھے کہنے لگی اور چودو زور زور سے چودو . میں کچھ دیر بعد فارغ ہو گیا اس کے اندر ہی اور وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہو گئی . پھر میں نے اپنا لن باہر نکال لیا . ہم دونو ابھی بھی سکس کرتے ہیں بہت مزہ آتا ہے جب چھوٹی پھدی میں جاتا ہے تو الگ ہی مزہ تا ہے. آج اسسکی اور میری شادی ہو گئی ہے مگر اس راز کو ہم نے کبھی کھلنے نہ دیا اور آج بھی ہم موقع ملتا ہے تو سکس ضرور کرتے ہیں۔

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top