اردو سیکس سٹوری لیسبین بہنوں کا سیکس

(urdu sex story lesbian bahno ka sex)

urdu sex story jab ladki ki choot hot ho jati he wo kiya karti he

گرم اردو سٹوریز والی ہم تین بہنیں ہیں شائد آپکو یقین نا آئے لیکن یہ سچ ہے میں لیسبین ہوں اور اس کی وجہ بھی ہے میں کسی لڑکے کو پھدی دیکر بلیک میل ہونے کے خوف میں مبتلا ہوں کاش مجھے کوئی اچھا لڑکا چودنے کو مل جاتا

تاکہ میں بھی اپنی گرم پھدی میں کوئی آٹھ نو انچ کا بڑا لن بھر لیتی میری پھدی اتنی گرم ہے کہ اگر لن اس کے اندر چلا جائے گا تو لڑکا ایک منٹ سے بھی پہلے میری پھدی میں منی چھوڑ دے گا اس کی وجہ بھی ہے کیونکہ میری پھدی فل ٹائیٹ  اور لن کو گرپ کرنے والی ہے

دوسری میری پھدی میرے مذاق کے مطابق فل گرم ہے اور اس کے اندر تو باروود بھرا ہوا ہے جو لن  ایسے راکٹ کو شعلہ دکھا دیتی ہے اور راکٹ پھر پرواز کے ساتھ ہی ٹھس ہو جاتا ہے

  میری پھدی کو راکٹ نہیں شاہین میزائل کی کم از کم ضرورت تھی بلکہ ہم تین جو بہنیں ہیں ان تینوں کو میزائلوں کی اشد ضرورت رہتی تھی اور اس کا حل ہم تینوں نے کوب نکالا ہوا تھا  اس کہانی کو میں گرم اردو سٹوریز کے شوقین قارئین کی کدمت مٰں من و عن پیش کرتی ہوں امید ہے کہ بہت پسند آئے گی

میرا  نام ثناہے میری دو اور بڑی پاکستانی لڑکیاں بہن ہیں جو میرے سے دو سال بڑی ہیں ایک کا نام شائستہ ہے اور دوسری کا  نام مریم  ہے ہم لوگ لیسبین سسٹرز ہیں میری عمر 20 سال تھی

جب میں نے پہلی بار اپنی سسٹر کی انگلی لی میرا سائز 32/28/30 تھا اور مریم کا سائز 34.32.36. تھا شائستہ کا سائز سب سے بڑا تھا 38/32/36 ایک رات گھر میں کوئی نہیں تھا اور میں سو رہی تھی کہ مجھے آواز آنے لگی اٹھ کر دیکھا تو میری دونوں بہنیں مست ہو رہی تھی اور ان کی مستی نے مجھے بھی تباہ کر دیا ہے

سچ کہتے ہیں خربوزا خربوزے کو دیکھ کے رنگ پکڑتا ہے میں بھی رنگ پکڑنے لگی تھی دوستوں میری بھی جوان پھدی تھی کوئی مذاق نہیں تھا وہ دونوں پھدی کی گرمی دور کر رہی ہوں

اور دوسری بے چاری پھدی کے اوپر ہاتھ رکھے کیسے سکون سے سو سکتی ہے میں راتوں کو پھدی کے اوپر دوران نیند ہاتھ رکھ لیتی تھی کئی بار میری ماں نے رات کو مجھے دیکھا

اور میرا ہاتھ نکالتی تھی تب مجھے جاگ آجاتی اور میں شرمندہ ہو جاتی اور کہتی ماں مجھے خارش ہو رہی تھی بس نیند میں ہاتھ اندر رہ گیا ماں کہتی بیٹی خیال رکھا کرو یہ بری بات ہے

مریم نے شائستہ کی چڈٌی میں ایک ہاتھ ڈالا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی شلوار میں  کچھ کر رہی تھی میں نے  پوچھا کیا کر رہی ہو تو جواب ملا جسم ٹھنڈا کر رہی ہیں تم بھی آجاؤ میں نے منع کر دیا

پھر وہ اٹھ کر میرے پاس آگئیں اور زبردستی میری شلوار اور قمیض پھاڑ دی شائستہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا کہ کہا جو ہو رہا ہے ہونے دو بس مزہ لو اور مریم نے میری چوت  چاٹنا شرو ع کردیا

مرے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑ اٹھا اور مستی چڑھ گئی شائستہ اور مریم بھی ننگی ہو کر ایک دوسرے کو کس کرنے لگی پھر مجھے بیٹھا کر میرے بوبس

چوسنے لگی ایک شائستہ کے منہ میں تھا ایک مریم کے منہ میں زور لگا کر چوسنے لگی پھر میرے نیچے کے ہونٹ جس کو چوت کہتے ہیں اسکو شائستہ نے زور زور سے رگڑ نے لگی

بہت مزہ آرہا تھا مجھے لیٹا کر وہ شائستہ میری چوت چوسنے لگی اور میریم میرے منہ پر اپنی چوت لے آئی اور میں اسکی چوت چوسنے لگی قریب کچھ منٹ بعد مریم چھوٹ گئی

اور اسکا پانی میرے بوبس پر آیا شائستہ اوپر آئی اور اس نے میرے بوبس پر سے سارا پانی پی لیا اب شائستہ لیٹی اور مجھے بولی میری چوت چوسو میں چوسنے لگی انگلی ڈالنے کہا

میں نے پہلے ایک انگلی ڈالی پھر دو اور پھر چار اندر باہر کرتی رہی اتنے میں مریم پھر گرم ہوگئی اور وہ میرے پیچھے سے مجھے پیار کرنے لگی کیا شاندار پھدی کو مزہ مل رہا تھا

میری گانڈ چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی اتنے میں شائستہ چھوٹ گئ اور اسکا پانی میرے منہ پر آگیا بہت میٹھا میٹھا سا تھا مگر مزہ الگ ہی لگ رہا تھا مجھے دونو ں نے الٹا لیٹا دیا

اور اور میری گول گول گانڈ دبانے لگی پھر شائستہ نے مریم سے کہا جاو اپنا بھوک مٹانے والا کھانا لاو وہ گئی اور شائستہ نے میری چوت میں انگلی ڈالنا شروع کیا مزہ بہت آنے لگا

اتنے میں مریم آگئی میں اٹھی اور اسکے ہاتھ جب میں نے وہ چیز دیکھی تو میں چیخ بھی نہیں سکی لمبی موتی تازی مولی جو تقریباً 10 انچ کی تھی شائستہ نے مولی ہاتھ میں لی اور سہلانے لگی

مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میری بہنیں مجھے مار نہ ڈالے مگر انہوں نے تو مجھے جینا سکھایا جب مولی میری چوت میں چڑھائی تو میری سانسیں دھیمی ہوگئیں آواز تو لگ رہا تھا

میرے پاس ہے ہی نہیں آرام آرام سے مولی اندر باہر ہونے لگی مزہ بہت آرہا تھادرد بھی میٹھا لگ رہا تھا اور مریم بول رہی تھی صبح ہونے والی ہے یہ چھوٹ کیوں نہیں رہی شائستہ نے کہا پہلی دفعہ ہے اسکو ٹائم لگےگا اور مولی تیز تیز اندر باہر کرنے لگی میری جان نکل رہی تھی اور وہ مجھے مولی سے چود رہی تھی

بہت دیر بعد جب شائستہ تھک گئی تو مریم نے مولی پکڑ لی اور جھٹکوں سے زور زور سے میرے اندر دینے لگی جب میں چھوٹی تو سب سے پہلے میرا پانی مریم نے منہ میں لے لیا

اور میں تو بستر پر مری پڑی تھی شائستہ نے میرا منہ کھولا اور مریم نے میری چوت کا پانی میرے منہ میں ڈالا اور کہا اب تم ہماری بہن ہو شائستہ ایک طرف میرا بوب چوسنے لگی

دوسری طرف مریم نےمیرے بوبس چوسنا شروع کیا اور اس طرح سے ہم پاکستانی لڑکیاں لیسبین سسٹر بن  گئیں ہیں اور بہت عرصے سے گرم اردو سٹوریز کو انجوائے کر رہی ہیں اور اس طرح ہم کو بھی اپنی کہانی یہاں پوسٹ کرنے کا خیال آیا ہے

teen age ladkiya kis tarah sex like karti he

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top