بالوں والی لڑکی کی مری کی پہاڑیوں پر چودائی

مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ بالوں والی لڑکی ہوگی  ماڈرن دور ہے زیادہ تر لڑکیاں اپنی چوت کے بال اتار کے رکھتی ہیں  کیونکہ عام طور پہ مردوں کو شیو چوت زیادہ پسند ہوتی ہے اور اس بات کے پیش نظر لڑکیاں جن کے محبوب ہوتے ہیں یا جن کو چدائی کا کریز ہوتا ہے وہ اپنی چوت ٹانگوں  رانوں اور کلائیوں کے بال اپ لپس وغیرہ بھی ہر وقت صاف رکھتی ہیں کسی بھی وقت ان کے محبوب دوست یا شوہر کا موڈ ان کی پھدی لینے کا بن جائے تو وہ تیار ہونے میں وقت نہیں لگاتی یہ اچھی بات ہے اس دور میں  لائف بہت مصرف ہو چکی ہے کسی کے پاس اب تو اتنا وقت نہیں ہوتا کہ پھدی لینے کے لیئے اگر لڑکی کے پاس جائے اور آگے سے وہ کہے مجھے پھدی کی صفائی کرنی ہے

بندہ کہتا ہے یا تو ایسے ہی آجاو میرے پاس وقت کم ہے یا پھر بنا چودے ہی چلا جاتا ہے اس لیئے اب لڑکیاں زیادہ گرم مزاج کی ہو گئیں ہیں زمانہ بدل گیا ہے اب سیکس عام ہو چکا ہے سیکس کے بنا لڑکی ناکارہ سے سے طلاق مانگ لیتی ہے پرانے دور مٰں سسک سسک کے وقت گزار دیتی تھی اب سیدھی عدالت جا کے خلع مانگ لیتی ہے لن کی اور سیکس کی اہمیت پہلے دوتر سے بھی زیادہ ہو چکی ہ۹ے اس لیے اب میں کسی کی پہینٹ اتارنے یا شلوار نیچے کرنا لگتا ہوں تو مجھے سب سے پہلے توقع کے عین مطابق شیو پھدی کا سامنا ہی ہوتا ہے

ترس گیا ہوں فل بالوں والی پھدی چودے یا دیکھے زمانہ ہو گیا ہے میں تو بس یہ ہی سمجھتا رہا کہ وہ بھی عام لڑکی ہو گی کیونکہ بالوں والی لڑکی کم ہوتیں ہیں زیادیہ تر شیو چوت یا کم بالوں والی چوت ہوتی ہے زیادہ گھنے اور کالے سیاہ بالوں والی لڑکی کم کم ہوتیں ہیں کیونکہ زیادہ بال لڑکیاں بڑھانا پسند نہیں کرتیں ڈیٹنگ گرل بطور فیشن یا لمس بڑھانے کیلئے گاہک کی مرضی موافق پھر بھی بڑھائے رکھتیں ہیں لیکن گھریلو کم ہوتیں ہیں اگر کوئی گھریلو لڑکی مل جائے جس کی پھدی کا بال بڑھے ہوئے ہوں تو اس بات کی گواہی ہوتی ہے ک وہ یا تو غریب لڑکی ہے جس کو گھر یا مزدوری سے اتنی فر۴صت ہی نہیں ملتی کہ وہ پھدی کے بال صاف کر سکے مہنگی کریمیں ہیں پھدی کے بال اتارنا بھی کافی مہنگا ہو گیا ہے

اب تو مٰں نے کئی نئی کریموں کے پیک دوست لڑکیوں کو دینے شروع کر دیئے ہیں تاکہ وہ پھدی کے بال کرنے میں نآسانی محسوس کریں یا پھر برا کا تحفہ دیتا ہوں اب سوچ رہا ہوں پھدی کے رنگ بھی گفٹ کیا کروں ہم بھی انگریزوں سے اب کم پیچھے نہیں رہے سب کچھ تو ان کی طرح کرنے لگے ہیں پھدی کے ارد گرد ٹیٹوز بنوانے کا پاکستان نمٰں رواج بڑھنے لہگا ہے کئی کال گرل کب سے بنا چکی ہیں  دوستوں اور جب مجھے کوئی بالوں والی لڑکی چودائی کیلئے ملے اک تبدیلی محسوس ہوتی ہے

اور مزہ زیادہ آتا ہے ایک ہی طرح چود چود کر بھی دل نہیں کرتا وہ ایک بالوں والی لڑکی تھی ان دنوں میں ایک کالج کے گروپ کے ساتھ مری گیا ہوا تھا اور ہمارا خیمہ ایک دور پہاڑی جگہ پر نصب تھا میرے سارے دوست اور دیگر لوگ مری شہر شاپنگ کیلئے گئے ہوئے تھے مجھے بخار محسوس ہوا اور میں نہ گیا اب میں اکیلا کیمپ میں تھا کہ وہ بالوں والی لڑکی خیمہ کا پردہ ہٹاکر کہنے لگی ناشپاتی لے لو تازہ توڑ کر لائی ہوں وہ لڑکی مقامی تھی اور ناشپاتیاں فروخت کرتی تھی

سیب کی طرح سرخ گال تھے اس کی گانڈ موٹی ممے بڑے اور کافی نمایاں تھے کپڑے اس کے میلے تھے لیکن مقامی فیشن کے مطابق تھے اس کے بال سنہری اور لمبے تھے اس کو دیکھ کر دل کرے ا سکی شلوار اتار کر دیکھوں اس کی چوت پر بھی اس کے سر کے بالوں کی طرح شائد سنہری اور لمبے لمبے بال ہونگے اور میں نے دل میں سوچا اگر یہ مجھے اپنی چوت دیدے تو اس پر فضا مقام میں اس کی چودائی کا مزہ دوبالا ہو جائے گا لیکن جلدی کرنے میں کام خراب ہو سکتا تھا

میں بالوں والی لڑکی کی چودائی کیلئے ترسا ہوا تھا اس لیے اس کو دیکھتے ہی دل میں امید جاگی تھی اور میں اس کو چودے بغیر واپس نہیں جانے دیتا تھا میں نے اسے کہا ہاں مجھے ناشپاتی بڑی پسند ہے لے آؤ اور اس نے کافی ساری ناشپاتیاں دیں جتنے پیسے اس نے مانگے وہ میں نے دیے میں نے مزید بیمار ہونے کی ایکٹنگ کر کے اس کی ہمدردی حاصل کی وہ رحم دل بالوں والی لڑکی تھی پاس بیٹھ گئی میں نے اسے اور ناشپاتیاں لانے کو کہا اور اور لے آئی اور اس نے میرے پاس بیٹھ کر باتیں شروع کر دیں

میں نے چودائی کرنے کیلئے جال پھینک دیا اور وہ پھنس گئی میں نے جائزہ لیا تنہائی تھی میں نے اس کی جلدی سے شلوار اتار کر دیکھی قدرت مہربان تھی اس کی ملائم بالوں والی تنگ چوت تھی  اس کی پھدی کے بال بھرے ہوئے فل گہرے تھے بالوں سے ڈھکی ہوئی تنگ منہ والی پھدی تھی دل کرے اس کی پھدی دیکھتا رہوں چودتا رہوں وقت رک جائےمیں نے تو چاٹنی شروع کر اور چاٹ چاٹ کر پانی نچوڑ لیا  ا سکی پھدی کی باس اچھی تھیئ وہ پہاڑی لڑکی تھی اس کے بدن سے پسینے کی باس کی بجائے بدن کی قدرتی خوشبو پھوٹ رہی تھی میری سانسیں مہک رہی تھیں اس کے ممے بھی چوستا رہا اس نے میرا لنڈ چوسنے سے انکار کر دیا لیکن میں نے اس کو ڈوگی پوز میں زور سے لنڈ ڈالا تو وہ تڑپ گئی اور پھر مزے لینے لگی اس کی چوت بھی لنڈ کیلئے ترسی ہوئی تھی ہم دونوں نے خوب انجوائے کیا پھر میں نے اس کو کافی سارے پیسے دیے تو کہنے لگی یہ کس لیے میں نے کہا تمہاری ناشپاتیاں بہت اچھی تھی

 

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top