سیکس سٹوریز مالی نے مالکن چودی

(sex stories mali nae malkin chodi)

Sex Stories ek mali ki sachi kahani malkan chodi

میں سیکس بارے زیادہ نہیں جانتا  لیکن لنڈ دالنا جانتا یوں ۔ بس مجھے اتنا علم  ہے کہ سامنے لڑکی پڑی ہو اور اس کو اعتراض نا ہو تو اس کی چدائی لگا لی جائے  میں کسی کو اس کی مرضی کے بغیر چودنے  کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ میں بنیادہ طور پہ شریف انسان ہوں اور شریف انسان کو آپ ڈرپوک بھی کہہ سکتے ہیں

میں نے ایک بار بچپن میں  دیکھا تھا کہ ہمارے  گاوں میں ایک لڑکے نے ایک شریف لڑکی کو چھیڑا تھااور تب گاوں والوں نے اس کے منہ کو کالا کر کے جوتیوں کا ہار بنا کے اس کے گلے میں باندھا تھا اور اس کے گدھے پہ بٹھا کے سارے گاوں میں پھرایا تھا اس دن مٰں نے دل میں عہد کیا تھا کہ یار اس طرح کسی کی مرضی کے بنا اس کو چھیڑنے کا انجام اگر اس قدر ذلت آمیز ہوتا ہے تو میں  کبھی بھی اس طرح کی بے وقوفی نہیں کرونگا

اور پھر مٰں نے جس کو بھی چودا پہلے اس کی رضامندی معلوم کی پھر جا کے  جا اس کی چوت ماری  اس طرح میں ایک شریف ڈرپوک انسان ہوں میری عمر زیادہ نہیں ہے میں نے میٹرک بھی کیا ہوا ہے لیکن مزور ٹائپ کا انسان ہوں میرے حالات نے مجھے اس پہ مجبور کر دیا ہے کہ میں اب ایک مالی بن کے لوگوں کی کوٹھیوں میں  پھولوں کو پانی دیتا ہوں

پودوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں کبھی کبھی مجھے کسی کوٹھی والی میم صاحبہ یا اس کی جوان خوار بیٹی آفر کر دے اس کی کی چوت کو پانی دو تو میں  انکار نہیں کرتا کیونکہ میرا لوڑا بھی مجھ سے کنٹرول نہیں ہوتا جب اس کو کسی آفر کا عل ہو جائے پھر رات را بھر لوڑا کھڑا رہتا ہے

اور کئی بار رات کو دوران نیند ہی لوڑا منی اگل دیتا ہے اس سے بہتر ہے کہ میں چوت ماروں  میں اپنی سیکسی کہانی شیئر کرنا چاہتا ہوں جو کسی فلم کی کہانی کی طرح ہے مزہ آئے گا پڑھ کے تو شروع کرتا ہوں سیکس کہانی میں ایک گھر میں مالی تھا ان کی پاکستانی لڑکی بہت ہی پیاری تھی اور مجھے بہت اچھی لگتی تھی

میری عمر پچیس  سال اور اس لڑکی کی عمر بیس سال تھی وہ مجھے بہت پسند تھی میں ہر روز اس کو دیکھا کرتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی پری ہو وہ سب ہی کو بہت اچھی لگتی ہے پر مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ کوئی اس کی تعریف کریں میں اس سے بات کرتا تھا کوئی نہ کوئی بہانا بنا کے اس پاکستانی لڑکی سے بات کرتا تھا

پر وہ زیادہ تر گھر نہیں ہوتی تھی کیوں کہ اس کو گھر پر رہنا پسند نہیں تھا تو وہ زیادہ تر دوستوں کے گھر یا پھر پڑھائی میں ہی مصروف رہتی تھی اور وہ پڑھنے کی بہت شوقین تھی اس لیے وہ پڑتی رہتی تھی اور رات کو کئی بار نگی فلم دیکھ کے سونے کی عادی تھی نا جانے فلم دیکھ کے کیسے صبر کر لیتی تھی ٹرپل ایکس کی شوقین تھی

اور میں دن رات ان پاکستانی لڑکی کے گھر پر ہی رہتا تھا پھر اس کے پیپر تھے تو وہ رات کو پڑھائی کر رہی تھی تو اس کے کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی تو میرا اچانک دھیان اس کے کمرے کی طرف چلا گیا تو میں نے سوچا کہ آج پتا نہیں اس کا کمرے کی لائٹ کیوں جل رہی ہے تو پھر مجھے یاد آیا کہ ان کے پیپر ہے

تو میرا دل کیا کہ میں اس کے کمرے میں چلا جاؤں تو میں چلا گیا اور کمرے کے باہر کھڑا ہو گیا تو کافی دیر کے بعد اس نے مجھے دیکھا اور بولی تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں نے بولا کیا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں پھر میں اس پاکستانی لڑکی کے پاس چلا گیا اور اس نے مجھے تھپڑ مارا  کیونکہ میں نے اس کو ٹرپل ایکس دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھاتو میں جلدی سے چلا گیا

پھر اس نے صبح اس نے مجھ سے معافی مانگی اور بولی اصل میں رات کو مٰں ڈرنک میں تھی میں چوری پیتی بھی ہوں مجھے ہوش نہیں تھا اگر تم کو سیکس کا بہت شوق ہے تو مٰں ایک پلان بتاتی ہوں مجھے فلمی انداز اور ڈراونی سیکس اچھی لگتی ہے تم ایک کام کرو

اس نے ایک بہت زبردست پلان بنایا پھر میں کچھ دن کے بعد رات کو ان کے گھر چلا گیا پھر میں نے جا کر اس لڑکی کے منہ پر کپڑا باندھ دیا اور پھر اس کے ساتھ زبردستی کرنے لگا  جو کہ فلمی انداز تھا اور اس کے بتائے ہوئے پلان اور اسکرپٹ کے مطابق ہو رہا تھا وہ سیکس کو ایڈونچر بنا کے چدائی چاہتی تھی

وہ بیڈ پر لیٹی تھی تو میں نے اس پاکستانی لڑکی کے ہاتھ پکڑ لیے اور اس پاکستانی لڑکی کی جوانی کے اوپرلیٹ گیا اور پہلے تو میں نے اس کی قمیض ایک دم اتاری وہ اوپر سے نہیں نہٰں کرتی تھی میں زبردستی والا سین بنوا رہا تھااور اس کے بنا بر والے ننگھے بوبز کو نوچ کر چوسنے اور پینے لگا پھر اس کی جسم سے شلوار بھی اتار کر پھینک دی اور پھر میں نے اپنا کھڑا موٹا لنڈ نکال کر اسکی جوانی کی مست گھیلی والی چوت میں گھسیڑ دیا

پھر کھڑا موٹا لنڈ کو اسکی چوت کے اندر باہر زور زور سے بنا سوچے سمجھے کرنے لگا وہ ویسے تو چیخ ہی رہی تھی پر جب میں نے اپنا کھڑا موٹا لنڈ اس کی جوانی کی مست چوت میں ڈالا تودرد سے اس کی زور دار زبردست والی سکسی آوازیں نکل رہی تھی  اب سرور میں  ڈوب چکی تھی

مگر کسی کو بھی اس کی یہ آوازیں نہیں آرہی تھی اور مجھے اسکو چودنے میں بہت مزہ آرہا تھا اور میں اس پاکستانی لڑکی مزے لوٹنے میں مگن تھا اور میں بہت ہی سکون سے اس کی جوانی کی زبردست چوت مار رہا تھا اور پھر میں فارغ ہوا

اور اسکی چوت کے اندر ہی اپنی مٹھ بھر کر اسکو ننگھی چھوڑا اور اپنے کوارتڑ میں جا کے سو گیا اگلے دن اس نے مجھے دو ہزار دیئے اور بولی جب میرا موڈ ہو گا تم کو چودنا پڑے گا میں نے کہا جو حکم چھوٹی مالکن اور کھڑے ہوتے لوڑے کے ساتھ پودوں کو پانی دینے لگ گیا۔ ویسے میں بہت لکی ہوں

Sex Stories mali nae agli band kanwari gand mari

 

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top