سیکس سٹوریز کال گرل اور میں۔ آخری پارٹ

(sex-stories-cal-girl-aor-mae-akri part)

This story is part of a series:

Sex Stories ek sada ghar ki sachi kahani Pakistani society ki kahani

لیکن ہمارے  عملوں  کا ردعمل کہیں نہ کہیں  کسی نہ کسی رشتہ پر اثر پذیر ہو رہا ہوتا ہے  اور ہم انجان بن کے رہتے ہیں لاعملی اس لیئے ہی تو نعمت ہوا کرتی ہےلیکن ہم اس سے واقف نہیں ہوتے  ایک حساب سے دیکھا جائے تو لاعلمی بھی اک نعمت ہے لیکن لاعلم رہنے سے حقیقت نہیں بدلتی  شام جب فراز شازیہ کو گھر واپس لے کر گیا تو دونوں ایکدوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے

دونوں کے اندر چور تھا دونوں کے دل میں ایک چور تھا  جھجک تھی اور دونوں ہی  اپنے اپنے ضمیر کے مجرم تھے  رات جب دونوں لیٹے ہوئے تھے تو چپ چپ سے تھے تو شازیہ کے دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زبردستی کا اپنے شوہر کو بتا دے کیونکہ وہ سچ پہ تھی اور اس کے ساتھ برا ہوا تھا

لیکن ایک ڈر تھا  خوف تھا کہ پتا نہیں کہ اس کا ردعمل کیسا ہو گا   شوہر کہیں مجھے طلاق ہی نا دے اسی خوف کے زیر اثر شازیہ کچھ نہ بتا سکی  اور اپ سیٹ رہی تھی اور لاشعوری طور پر وہ فراز کے ساتھ جڑ گئی  تھی اور اس کے سینے میں سمانے کی کوشش کرنے لگی   جیسے عدم تحفظ  کا شکار بچہ مان کے ساتھ لپٹ کے یا باپ کے سائے میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے

فراز نے جب شازیہ کو خود سے چمٹتے  ہوئےدیکھا تو اس نے بھی شازیہ کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا   تھافراز کے دل میں بھی چور تھا وہ سمجھا شاید شازیہ جذبات کی شدت سے ایسا کر رہی ہے دونوں ہی ایکدوسرے کو دھوکہ دے رہے تھے   دونوں اچھے اداکار ثابت  ہوئے تھے

پہلے ہاتھ کمر پر تھا  کمر سے بوبز پہ پر گیا  بوبز سے پیٹ پر  اور باٹم بیلی پہ جو کہ اس کی باٹم بیلی بہت ہی سیکسی اور شاندار تھی جس کے بارے وہ اکثر بتایا کرتا تھااور پھر کچھ منٹوں کے بعد دونوں کے کپڑے اتر گئے تھے اور لن چوت  کا ملاپ ہو گیا  دونوں ہی محسوس کر رہے تھے کہ آج اس کا پارٹنر پہلے سے زیادہ پرجوش ہے نا جانے کیوں ایک دوسرے میں گھسنے کا موڈ بنا رہے تھے جیسے ضمیر  کا بوجھ ہلکا کرنا ہو  ایک زوردار اور پرلطف  سیکسی چدائی کے بعد دونوں سو گئے
اس رات فراز کا شازیہ سے ہمبستر ہونا اسکی زندگی کی بھیانک  سنگین غلطی تھی  اس غلطی کا خمیازہ اسے تا عمر بھگتنا پڑااگلے دن دکان پر فراز کو دوپہر کے وقت پیشاب کی  سخت حاجت ہوئی تو اسے پیشاب کی نالی میں جلن سی محسوس ہوئی  تھی لیکن قابل برداشت تھی  اس نے زیادہ توجہ  ہی نہ دی
اگلے دن فراز کی جلن میں  بہت اضافہ ہو چکا تھا اور اسکی پیشاب کی نالی سے سفید گندہ مواد بھی آنا شروع ہو گیا  فراز نے اپنے ایک دوست سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ یہ ایک سیکسی بیماری ہے  اور مسئلہ تو ہو گیا ہےاور عام طور پر کال گرلز سے ہی  لگتی

ہے  اس سے پہلے کہ یہ بیماری تمہیں ناکارہ بنا دے تم کسی مستند ڈاکٹر سے  ابھی رابطہ کرو
فراز اسی شام ایک حکیم کے پاس چلا گیا اور حکیم کو سارا مسئلہ بتایا   روائتی حکیم نے اسے دوائی دی اور فراز کو اپنی بیوی سے ہمبستری سے ٹھیک ہونے تک روک دیا تھافراز تو اپنی بیوی سے پہلے ہی ہمبستری کر چکا تھا اور نازو سے لئے ہوئے جراثیم شازیہ میں

منتقل کر چکا تھا   اف بہت گڑ بڑ ہو چکی تھی تین دن بعد فراز بیماری سے نجات پا چکا تھا
تقریبا ایک ہفتہ بعد جب صبح شازیہ اٹھی تو اس نے شلوار پر خون کا دھبا دیکھا تو وہ پریشان ہو گئی  تھی اور اس بات کا ذکر فراز سے کیا تو فراز اسے  ماہر لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا  لیڈی ڈاکٹر نے  ڈیپ الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد شازیہ کو بتایا کہ وہ شدید قسم کے اندرونی انفکشن سے متاثرہ ہے  اور کافی وائرس نما مسئل ہوا ہے

اس کا واحد حل یہ ہے کہ ابارشن کروایا جائے ورنہ زچہماں کی زندگی بھی جا سکتی ہے  بادل ناخواستہ فراز کو شازیہ کا ابارشن کروانا پڑاشازیہ کے لئے یہ صدمہ نا قابل برداشت  ہوا تھا ایک ماں کی گود گویا اجڑ ہی گئی تھی اور  بہت اذیت ناک تھا  اس کی ذہنی اور جسمانی حالت کافی زیادہ  ابتر ہو گئی   تھی

وہ سمجھ رہی تھی کہ بچے سے محرومی کی سزا عامر سے سیکس تھا  اس کی دانست میں تو ایسا ہی تھاحالانکہ اسمیں اسکی مرضی شامل نہیں تھی لیکن وہ خود کو قصوروار سمجھ رہی تھی کیونکہ وہ سچ پہ تھی دوسری طرف ان حالات کا ذمۂدار فراز خود کو سمجھ رہا تھا

اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو وجہ وہ خود ہی تھا نہ وہ نازو سے سیکس کرتا  کیونکہ اس کی بنا پہ ہی سب کچھ ہوا تھااور نہ اس کی بیوی  شدیدانفکشن کا شکار ہوتی اور نہ ہی ابارشن کروانا پڑتاقصہ مختصر  فراز نے سیکسی بیماری سے نجات تو حاصل کر لی تھی لیکن اس کے لن میں پہلے جیسی طاقت نہ رہی تھی   نازو سے اسکی دوستی ان نا رہی  تھی اور اسکی بیوی دوبارہ حاملہ بھی نہ ہو سکی

بہت عجیب صورتحال ا سکے ساتھ پیش آ رہی تھی
شازیہ سیکسی مزےسے بھی محروم ہے اور اولاد کی نعمت سے بھی شادی کے بعد شازیہ سے خوشیاں سنبھالے  ہی نہیں سنبھلتی تھیں اور خود کو وہ بہت خوش نصیب اور خوش قسمت سمجھتی تھی کیونکہ اس کو سب خوشیاں مل چکی تھی سوائے اس ٹینشن کے جو اب اس کے سر پہ نازل ہو چکی تھی  اب وہی خود کو بدنصیب اور بدقسمت سمجھتی ہے  وہ اکثر تنہائی میں سوچتی ہے کہ میں خوش کیوں نہیں

‎میرے حصے کی خوشیاں کیوں مجھ سے روٹھ گئی  چکی ہیں اس سوال کا جواب آپ کے  بھی پاس ہے تو ضرور کمنٹ میں دیجئے گا کیونکہ میں ا سبات کو کافی شیئر کرنا چاہتا ہوں میرے خیال میں جو خوشیاں ماں باپ کا دل دکھا کر حاصل کی جائیں وہ اکثر ناپائیدار اور عارضی ہوتی ہیں آپ اس کہانی سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں ا سبارے میں لازمی بتائیں  اس کا تو مجھے پتا نہیں لیکن میرا کہانی لکھنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ کال گرل سے سیکس کرنے کے بعد اپنی بیوی سے سیکس ہرگز ہرگز نہیں کرنا چاہئیے  اور لن

Sex Stories jab zindgi nae muj ko up set kia to mae nae kia socha

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top