سیکس سٹوریز کال گرل اور میں۔ پارٹ ون

(sex stories cal girl aor mae part one)

Sex Stories ek sada ghar ki sachi kahani Pakistani society ki kahani

ظفر نے آفس واپسی پر جیسے ہی اپنے گھر کی بیل بجانے کے لئے بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اندر سے اپنی بیٹی کی آواز سن کر اس کا ہاتھ اٹھے کا اٹھا رہ گیاامی میں شادی کروں گی تو صرف فراز سے  ورنہ میں زہر کھا کر اپنی جان دے دوں گی یہ الفاظ نہ تھے بلکہ ظفر کی سماعت پر ایک تازیانہ تھے جس سے اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے

اور وہ لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا کہ بیل کی طرف اٹھا ہوا اس کا ہاتھ دیوار سے ٹکرا گیا اور دیوار اس کے لئے سہارا بن گئی اور اسی اثنا میں اس کے حواس واپس آ گئے اور وہ گرنے سے بچ گیا بیٹی تمہارے ابا جان نہیں مانے گے  ہم رشتہ  تھا  تھا رشتہ  داروں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ہماری بیٹی نے  صرف اپنی پسند کی شادی محلے کے ایک نوجوان سے کر لی

اور وہ لڑکا بھی غیر برادری کا  بیٹی تم ہماری عزت سے نہ کھیلو  شادی کا فیصلہ اپنے ابا جان پر چھوڑ امی میں شادی کروں گی تو بس فراز سے  آپ ابا جان کو سمجھائیں   پلیز میں فراز سے شادی کر رہی ہوں اس کے ساتھ بھاگی نہیں رہی کہ جس سے ہماری بدنامی ہو گئی شازیہ اپنی امی سے یہ کہتے ہوئے اندر کمرے میں چلی گئی اور اندر گھر میں خاموشی چھا گئی

کچھ دیر بعد ظفر گھر میں داخل ہوا تو اس کے ذہن میں شازیہ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے واقعات چل رہے تھے  بچپن سے لے کر جوانی تک شازیہ بہت ہی فرمانبردار اور تابعدار قسم کی بچی تھی اور وہ اپنی بیٹی کی اچھی سوچ  پر ایک طرح کا فخر کیا کرتا تھا لیکن آج اک ہی جھٹکے میں اس کا سارا فخروغرور خاک میں مل گیا تھا اسے کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اس افسوس ناک  بات پر کیا ردعمل دے
رات کا کھانا بھی ظفر نے بےدلی سے کھایا اسکی وائف نے کئی بار ظفر سے اس کے پریشان  ہوتے  ہوئے چہرے کا پوچھا لیکن وہ ہر دفعہ ٹال گیا  ساری رات سوچنے کے بعد ظفر نے نا چاہتے ہوئے بھی اسکی شادی فراز سے کرنے کا فیصلہ کر لیا  ساری زندگی اس نے بیٹی کی کسی فرمائش کو رد نہیں کیا تھا تو اس نے یہ فرمائش بھی پوری کرنے کا فیصلہ کر لیا چاہے خاندان کے لوگ اس پر ہنستے یا  صرف باتیں بناتے
فراز ایک خوبصورت اور اونچا لمبا جوان تھا  بنیادی طور پر وہ اک شرمانے والا  نوجوان تھا جس وجہ سے اس کی کوئی بھی گرل فرینڈ  ہی ناتھی  اس کمی کو وہ کال گرلز سے پوری کر لیا کرتا تھا اس کی سپرے  وغیرہ اور کھاد کی دکان تھی  وہ صبح سے شام تک دکان پر ہوتا تھا  جب کبھی سیکسی خواہشات زور پکڑتیں تو وہ کسی نہ کسی کوٹھے والی سے رابطہ کرتا

اور وہیں دکان پر اپنی سیکسی ناآسودگی کی تکمیل کر لیتا  اس نے دکان پر ایک آرام کے لئے چھوٹا سا کمرہ بھی بنایا ہوا تھا وہی اس کا عیش کدہ تھادوپہر کا وقت تھا فراز نے ایک نائیکہ  سے رابطہ کیا اور کسی نئی کم عمر لڑکی کی خواہش کی تو آنٹی  نائکہ نے اس کے پاس لڑکی بھیجنے کا کہا اور اب فراز  سیکسی لڑکی کے انتظار میں تھا
تقریبا آدھے گھنٹے بعد کالج یونیفارم میں ایک بیس اکیس   سالہ لڑکی اس کی دکان میں داخل ہوئی

جیسے دیکھ کر فراز کی آنکھوں میں چمک اتر آئی  لڑکی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ گدرائے  ہوئے جسم کی مالک تھی  چہرے سے یا انداز سے کہیں سے بھی وہ کال گرل نہیں لگ رہی تھی  فراز کو ایسی ہی لڑکیاں پسند تھیں  وہ ابھی اس کا  سیکسی جائزہ ہی لے رہا تھا کہ وہ اس سے مخاطب ہوئی کہ
مجھے فراز صاحب سے ملنا ہے   جی مجھے فاخرہ آنٹی نے بھیجا ہے  جی میں ہی فراز ہوں آپ سامنے کمرے میں چلیں فراز یہ کہتا ہوا اس کے پیچھے کمرے میں داخل ھو گیالڑکی نے کمرے میں جاتے ہی اپنا پرس اور دوپٹا گلے سے نکال کر بیڈ پر رکھا اور پیچھے مڑی تو فٹنگ والی قمیض میں اسکی تنی ہوئی بھاری مست چھاتیاں دیکھ کر فراز کے من میں ھلچل ہونے لگی

یہ لڑکی اسکی زندگی میں آنے والی سب سے حسین  کم عمر اور خوش شکل لڑکی تھی  اس نے دل ہی دل میں فاخرہ آنٹی کو شاباش دی اور لڑکی سے اس کا نام پوچھا میرا نام نازو ہے  لڑکی نے جواب دیابہت خوبصورت ہیں آپ  فراز نے نازو سے کہا تو وہ شوخی سے بولی  وہ تو میں ہوںفراز مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھا

اور اپنی لمبی نازک  بانہیں اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا  اسکی نرم و گداز مست چھاتیاں فراز کے سینے سے ٹکرائیں تو وہ سرور کی گہری وادی میں اتر گیا اس نے پرجوش ہو کر نازو کو زور سے بھینچ لیا اور نیچے سے اسکے لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا  اک زوردار جپھی ڈالنے کے بعد اس نے نازو کو خود سے علیحدہ کیا

اور اپنے ہونٹ اس کے رسیلے ہونٹوں سے ملا دئیے  نازو کے ہونٹ بہت ہی نرم و نازک تھے جنھیں فراز نے دیوانگی سے چومنا اور چوسنا شروع کر دیا  نازو بھی اس کا ساتھ دینے لگی  فراز نے لپس  چوسنے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک ہاتھ اسکی بڑی بڑی چھاتیوں پر رکھ دیا اور انھیں دبانے لگا  نازو کی مست چھاتیاں بالکل ربڑ کی مانند نرم تھیں

فراز نے جیسے ہی تھوڑے زور سے نازو کے ممے دبائے تو اس نے فراز کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے خود سے دور کرنے لگی تو فراز نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا تو نازو نے کہا کپڑوں پر شکنیں نہ پڑ جائیں اسلئے پہلے میں اپنے کپڑے اتار لوں
نازو نے بڑے ہی سیکسی انداز میں فراز کی طرف دیکھا اور اپنی قمیض اتار دی

Sex Stories jab zindgi nae muj ko up set kia to mae nae kia socha

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top