سیکس سٹوریز کال گرل اور میں۔ پارٹ ٹو

(sex-stories-cal-girl-aor-mae-part-two)

This story is part of a series:

Sex Stories ek sada ghar ki sachi kahani Pakistani society ki kahani

فراز کے سامنے اس کا بے داغ گورا جسم عریاں ہو گیا  اسکی مست  گوری چھاتیاں کالے رنگ کے برا میں قید تھیں  گورے جسم پر کالا برا تو ویسے ہی ہر لڑکی پر  ہی جچتا ہے لیکن نازو کے جسم پر قیامت ڈھا رہا تھا اوپر سے نازو کا نشیلی نظروں سے دیکھنا فراز کے تن من میں آگ لگا رہا تھا  فراز نے بے اختیار ہو کر نازو کو بیڈ پر گرایا  تھا

اور اسے بے تحاشا چومنا شروع کر دیا  اسی بے اختیاری میں اسے پتا ہی نہیں چلا کب اس نے اپنے کپڑے اتارے کب اس کی شلوار اور برا اتارے  کب اپنے لن کو اسکی  خوار والی پھدی کا راستہ دیکھایا اور کتنی دیر اسے چودا  بس اسے یاد تھا کہ وہ لطف و سرور کی بے پناہ  اتھاہ گہرائیوں میں تیر رہا تھا اس میں کبھی ڈوب رہا تھا تو کبھی ابھر رہا تھا

جب اسکی یہ کفیت ختم ہوئی تو نازو اپنی شلوار پہن رہی تھی اور بہت ہی پرسکون لگ رہی تھی  وہ خود بیڈ پر ننگا لیٹا ہوا تھا  اس نے اٹھ کر اپنے کپڑے بھی پہننا شروع کر دئیے   تھے دونوں جب اپنے کپڑے پہن چکے تو فراز نے نازو سے پوچھا
کتنے پیسے دوں
فراز تمہارا والہانہ پن دیکھ کر تم سے پیسے لینے کو دل نہیں کر رہا   سچ کہوں تو مجھے تمہاری  ادا دیوانگی بہت پسند آئی ہے  ایسا والہانہ پن میں نے پچھلے دو سالوں میں کسی  مرد میں میں نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے کوئی دوست بنایا ہے  تم مجھ سے دوستی کر لو اور جب تمہارا دل چاہے مجھے کال کر لیا کرو  کیا مجھ سے دوستی کرنا پسند کرو گئے ڈیئر
نازو نے فراز سے کہا تو اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلا دیا کیونکہ اسکی بھی کوئی دوست نہیں تھی اور نازو تو بہت  ہی خوبصورت لڑکی تھی  نازو اور فراز کی پہلی ملاقات سیکس کے ساتھ ساتھ دوستی میں بدل گئی  شام میں گھر جا کر فراز جب نہا رہا تھا تو بار بار اس کے ذہن میں ایک ہی بات آ رہی تھی کہ ایک کال گرل میں اتنا مزا ہے تو بیوی میں کتنا مزا ہو گا
لہذا اس کا دل شادی کے لئے للچانے لگااپنی اس خواہش کا اظہار اس نے اپنی پیاری  ماں سے کیا اور لڑکی تلاش کرنے کا کہا  ساتھ ہی اسکی بہن زویا  پاس بیٹھی ہوئی تھی اس نے کہا لڑکی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپکے لئے میں نے لڑکی پہلے سے ہی ڈھونڈ رکھی  ہوئی ہے
کون ہے وہ لڑکی فراز نے  ایک دم سے پوچھا تھاتو اسکی بہن نے کہا میری سہیلی شازیہ  ہے بھیا اور شازیہ دونوں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں اور دونوں بہت اچھی  پیاری دوست تھیں  ایک دوسرے کے گھر  بھی آتی جاتی رہتی تھیں  شازیہ کی عادات و اطوار بہت اچھی تھیں پیاری لڑکی تھی

اور اس کے امی ابا جان بھی خوش اخلاق اور پڑھے لکھے تھے شازیہ کی فیملی کا شمار محلے کے اچھے لوگوں میں ہوتا تھا   لوگ ان کی عزت کیا کرتے تھے زویا خود بھی شازیہ سے اچھی طرح واقف تھی اور ان کے خاندان میں فراز کی کوئی ہم عمر لڑکی بھی نہ تھی جس سے فراز کی شادی کروائی جا سکے تھی   اسلئے زویا شازیہ کو اپنی بھابی بنانا چاہتی تھی
فراز نے شازیہ کو اپنے گھر میں کافی دفعہ دیکھا  بھی تھا لیکن اپنی شرمیلی طبعیت کی وجہ سے

کبھی غور سے دیکھا یا بلایا نہیں تھا اور نہ ہی شازیہ کبھی فراز سے مخاطب ہوئی تھی  اب جبکہ اسکی بہن نے شازیہ کا ذکر کیا تو فراز اس کا اپنے گھر میں منتظر تھا کہ وہ ان کے گھر آئے  اعر کب وہ اس کو گور سے دیکھے اور وہ اچھی طرح اس کا جائزہ لے سکے
یہ موقع اسے چند دنوں بعد ہی مل گیا  جب وہ دکان سے گھر واپس آیا تو زویا اور شازیہ صحن میں چارپائی پر بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں   وہ کھل اٹھا تھافراز بھی ان کے پاس چلا گیا  اس دن فراز نے پہلی دفعہ شازیہ کو نظر بھر کر دیکھا  شازیہ ایک دبلی پتلی صاف رنگ کی لڑکی تھی

اس کے نین نقش تیکھے اور پیارے تھے  پہلی نظر بتاتی تھی کہ شازیہ ایک خوبصورت لڑکی ہے لگ تو ایسا ہی رہا تھا  شازیہ فراز کو اچھی لگی اور فراز نے شازیہ کو اپنی دلہن بنانے کا فیصلہ کر لیا زویا ایک تیز طرار لڑکی تھی  اس نے شازیہ کو سیدھی بات بتانے کی بجائے اسے فراز کی جانب مائل کرنے کا پروگرام  بنانا شروع کر دی  تھی اور باتوں ہی باتوں میں اسے یہ باور کروانا شروع کر دیا کہ فراز ہی  شازیہ میں دلچسپی لیتا ہے
زویا کی باتوں سے شازیہ بھی فراز کی طرف توجہ دینے لگی   تھی اب فراز اور شازیہ کا جب آمنا سامنا ہوتا تو وہ ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے  اور تھوڑا بہت مسکرانے بھی لگے  دوسرے مرحلے میں زویا شازیہ سے فراز کی شازیہ سے محبت کا ذکر کرنے لگی  تھی

اور اسے اپنی بھابی کہہ کر چھیڑنے لگی  اب شازیہ کے دل میں بھی فراز کی محبت جاگنے لگی  تھی اور اب جب آمنا سامنا ہوتا تو ان میں بات چیت بھی ہونے لگی  زویا جان بوجھ کر ان کو تنہائی فراہم کرنے لگی  تھی اور وہ بہانے بہانے سے ادھر ادھر ہو جاتی   تھی

اب شازیہ اور فراز کے درمیان پیار و محبت کے عہد و پیمان ہونے لگے  تھے اور وہ دونوں ایکدوسرے کے پیار میں مکمل طور پر ڈوب گئے تھے   یہ سب زویا کی محنت کا نتیجہ تھا  زویا نے شازیہ سے شادی کا ذکر کیا تو اس نے اپنی امی سے بات کی تو اسکی امی نے شادی سے منع کر دیا   تھا

کچھ دن تو شازیہ نے اپنی امی کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کی تھی  لیکن جب کسی طور شازیہ کی امی نہ مانی تو اس نے اپنی امی کو دھمکی دی کہ اگر اسکی شادی فراز سے نہ ہوئی تو وہ زہر کھا کر خودکشی کر لے گئی  نہیں جیئے گی بڑی اہم دھمکی تھی   آفس واپسی پر شازیہ کے ابا جان ظفر نے یہ دھمکی سن لی تھی
شازیہ کی امی نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن شازیہ اپنی ضد پر قائم رہی  جب شازیہ کی امی ہر طریقے سے سمجھانے کے باوجود بھی ناکام رہی  تھی تو اس نے شازیہ کے ابا جان سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیاایک رات باتوں باتوں میں شازیہ کی امی نے اسکے ابا جان سے شازیہ کی شادی کی بات کی تھی

تو شازیہ کے ابا جان نے تو پہلے سے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ بیٹی کی اس ضد کو نا چاہتے ہوئے بھی پورا کرے گا چاہے خاندان میں لوگ باتیں بناتے   رہیں شازیہ کے امی ابا جان تھوڑی بہت تو تکرار کے بعد شازیہ کی شادی فراز سے کرنے پر تیار ہو گئے تھے

Sex Stories jab zindgi nae muj ko up set kia to mae nae kia socha

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top