اردو سیکس میں خالہ کے گھر پھدی ماری

(urdu sex mae khala k ghar phudi mari)

urdu sex story jab guest ki choot enjoy ki

اردو سیکس  پہ مبنی بہت اچھی کہانی لیکر آیا ہوں مجھے لن پھدی کی باتیں کرنا سننا اچھا لگتا ہے میں کئی بار اپنی کالہ کے گھر جاتا ہوں اور وہاں ہی رک جاتا ہوں  میری خالہ کا گھر مجھے بہت راس آیا ہے

وہاں کئی میری اردو سیکس کہانیاں بنی ہیں مجھے وہاں جس کے اچھا لگتا ہے اور میری خالہ کے ممے بھی بہت بڑے ہیں مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا تھا تو کالہ جانی

مجھے اپنے ساتھ سلاتی تھی تب میں اس کے بڑے ممے میں منہ چھپا کے سو جایا کرتا تھااور ا سکے مموں سے خوشبو نکلتی تھی میں جلد سو جایا کرتا تھا کیا گرمی ہوتھی تھی خالہ کے بوبز کی

میرا نام انیل ہے اور میں نے اپنی خالہ کے گر پر ایک لڑکی کو چودہ دیسی سکس تھا جو کہ میری کزن کی سہیلی تھی کیا مست لڑکی تھی اور وہ بھی۸ ترستی چوت والی خوار لرکی تھی

اس دن میں اپنی خالہ کے گھر گیا ہوا تھا کسی کام کے سسلے میں تو مجھ کو رات وہیں رکنا پڑا تھا اور اسی دن وہ لڑکی بھی آئی تھی جو کہ سیکسی لگتی تھی مجھے سکس چڑھا ہوا تھا

وہ بھی رات کو رکی ہوئی تھی میں بار بار اسکے جسم کو دیکھتا کبھی اس کے ببوں کو تو کبھی اس کی گانڈ کو جو مجھ کو بہت اچھا لگ رہا تھا وہ جیسے مجھ کو دیکھتی میں نظریں پھیر لیتا

اسکی قمیض کا گلہ بڑا تھا جس کی وجہ سے جب وہ جھکتی تو اس ببے نیچے لٹک جاتے اس نے اندر بریزر نہیں پہنا ہوا تھا اس کے ببوں کی نپلیں نظر آرہیں تھیں اسکے گورے گورے ببے مجھ کو پاگل کر رہے تھے

جب وہ چلتی تو اس کے کولہے مٹک مٹک کر مجھ کو دیوانہ کر رہے تھے میرا دل کر رہا تھا کہ میں اس کو کس طرح سے چودوں رات کا کھانا کھا کر خالہ اور خالو سونے کے لئے چلے گئے

میں اور رضوان میری خالہ کا بیٹا اور عائشہ خالہ کی بیٹی مہوش عائشہ کی فرینڈ بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے اور ہنسی مذاق ہوتا رہا

پھر ہم رات دیر تک ٹی وی دیکھتے رہے عائشہ اور مہوش آگے بیٹھی ہوئی تھیں رضوان اور میں پرچھے بیٹھے ہوئے تھے مہوش  بار بار مجھ کو مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھی

اور دیکھ کر مسکرا رہی تھی جو مجھ کو اچھا لگ رہا تھا وہ اٹھی اور کچن کی سائیڈ گئی میں بھی اٹھا اور کچن میں چلا گیا اور اس سے پوچھا کے تم مجھ کو بار بار کیوں دیکھ رہیں تھیں

اس نے کہا کہ تم مجھ کو اچھے لگ رہے ہو میں نے اس کو کہا کہ تم بھی مجھ کو بہت سیکسی لگتی ہو اور پھر میں نے اس کے ہونٹوں پر کس کی اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا

اس کے ببوں کو دبایا پھر اس نے کہا کہ بس اب چلو ورنہ عائشہ کو شک ہوگا ہم لوگ جا کر واپس اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تھوڑی دیر کے بعد رضوان نے کہا کہ مجھ کو نیند آرہی ہے

میں جارہا ہوں سونے کے لئے یہ کہہ کر وہ چلا گیا کچھ دیر بعد ہم بھی سونے کے لئے اٹھ گئے مہوش نے جاتے ہوئے مڑ کر دیکھ اور آنکھ ماری اور چلی گئی میں بھی سونے کے لئے لیٹ گیا

سونے کی کوشش کرنے لگا مگر بار بار مہوش کا خیال آرہا تھا اس کے ہونٹوں کی حرارت مجھ کو ابھی تک اپنے ہونٹوں پر محسوس ہورہی تھی

اسکے نرم نرم ببے مجھ کو اپنے ہاتھوں پر محسوس کر رہا تھا یہ سب سوچ کے مجھ کو خواری چڑھ گئی میرا لنڈ کھڑا ہو گیا اور میرے لنڈ میں سے پانی نکلنے لگا میں تھوڑی دیر تک لیٹے رہنے کے بعد اٹھ کر مہوش اور عائشہ کے کمرے میں گیا

اور مہوش کو دیکھا تو وہ جاگ رہی تھی میں نے اس کو آنے کا اشارہ کیا اور اس کو لے کر اپنے کمرے میں آیا اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا اسکو بھی مزہ آیا اور وہ بھی میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی چوستے چوستے اس اچانک میرا لنڈ پکڑ لیا میں نے اس کی شلوار میں ہاتھ ڈالا

اور اسکے کولہوں کو دبانے لگا اسکی گانڈ کے سوراخ میں انگلی ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگا یونہی ایک دوسرے کو چومتے ہوئے ہم دونوں نے ایک دوسرے کے کپڑے اتار دے

میں اسکے ببوں کی نپلیں دیکھ کر پاگل ہوگیا اور انکو چوسنے لگا ایک ہاتھ سے ایک ببے کو پکڑ کر چوستا رہا پھر دوسرے ہاتھ سے اسکے دوسرے ببے کو دبانے اور مسلنے لگا

پھر اس نے مجھ کو ہٹایا اور بیٹھ کر میرا لنڈ چوسنے لگی جس میں پہلے تو مجھ کو مزہ آیا آہستہ آہستہ مجھ کو لگنے لگا جیسے اندر سے کچھ کھینچ رہا ہو پھر میں نے اسکی چوت میں اپنا لنڈ ڈال کر چودنے لگا

اور ساتھ میں اس کے ہونٹ بھی چوستا رہا اسکے ببے مسلتا رہا پھر میں نے اپنا لنڈ نکالا اور اس کو مڑ جانے کو کہا وہ مڑی اور پھر میں نے اس کو جھکایا اور اس کی گانڈ پر اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا

پھر لنڈ کو اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کے ایک جھٹکا دیا اور سااڑھے آٹھ  انچ کا لنڈ اسکی گانڈ کے سوراخ میں گیا وہ چلائی تو میں نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا

اور چودنے لگا زور زور سے چودنے لگا کچھ دیر بعد میری منی نکل گئی تو مجھ کو اور اسکو سکون ملا پھر ہم دونوں ایک ساتھ کافی دیر لیٹے رہے اور کھل کے گندی چدائی کی

باتوں کو ڈسکس کیا اس کو بھی کئی دنوں سے لن کی ضرورت تھی اور اس کی پھدی لیس دار ہو چکی تھی میرے لن نے ا سکی پھدی کی گرمی دور کی تھی اور  ا سکی پھدی نے میرے لوڑے کی پیاس بجھائی تھی

میرے پوچھنے پہ بتانے لگی گانڈ مت لینا دوبارہ مجھے بہت درد ہوئی ہے میں نے کہا لونگا لیکن گاںڈ لینے والے جیل کو استعمال کرونگا پھر درد نہیں ہوتی اور وہ مسکرائی اور بولی تم گانڈ چودنے سے باز نہٰں رہ سکتے اور مٰں نے کیہا اردو سیکس میں گانڈ لازمی ہوتی ہے جانو

urdu sex story me bad elund wale ki story kasi lagi

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top