پاکستانی سیکس سٹوریز جب رشتے بدل گئے پارٹ ٹو

(pakistani sex stories jab rishte badal gae part 2)

Pakistani sex stories me life ki real story

پاکستانی لڑکی یعنی میں نےپھر اپنی شلوار اتار دی  تو وہ غسل خانے سے ویسلین کی شیشی لے کر آے اور میری گانڈ اور چوت پر خوب اچھی طرح ویسلین مل دی پھر دھیرے دھیرے میری چوت پر اپنی انگلی پھیرنے لگے

اور میرے ھونٹوں پر پیار کرنے لگے میں ایک عجیب سی حالت میں تھی اور میری نظروں کے سامنے ابا اور امی کی وہ حرکتیں ایک فلم کی طرح آرہی تھیں جو وہ اکثر رات کو کیا کرتے تھے

پھر انکل نے مجھے اپنے گھٹنوں پر الٹا لیٹا لیا اور اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی میری چوت میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے  میری چوت ویسلین کی وجہ سے بہت  چکنی اور ملائم ہو گئی تھی اس لیے مجھے زیادہ درد محسوس نہیںں ہوا

بلکہ مزہ آ رہا تھا کافی دیر تک وہ میری چوت سے کھیلتے رہےان کا لنڈ تن گیا تھا اور میرے پیٹ سے چھب رہا تھا اب ان کی حالت بھی عجیب سی ہوگئی تھی ان کے چہرے پر پسینہ اور سانسوں میں تیزی اور انگلی کی رفتار بھی بڑھ گئی تھی

پھر انہوں نے مجھے ہٹایا اور بستر پر لے گئے خود پہلے لیٹے اور مجھے کہا  کے میں ان کے لنڈ کو اپنے منھ میں لے کر چوسوں میں ان کے سینے پر بیٹھ گئی میرا رخ ان کی ٹانگوں کی طرف تھااور میری گانڈ  انکل کے منہ کے پاس تھی

پھر میں نے انکل کے لنڈ کو اپنے منہ میں رکھا تو مجھے گھن کی وجہ سے متلی ہونے لگی اور میں نے لنڈ پر سے منہ ہٹا لیا
انکل بولے  عرفانہ ڈرو نہیںں کچھ نہیں ہوتا

  شاباش لے لو منہ میں اور میرے سر کو پکڑ کر پھر سے اپنا لنڈ میرے منہ میں ڈال دیا اور میں لنڈ کو چوسنے لگی ان کا لنڈ کافی لمبا اور موٹا تھا میں صرف ان کے لنڈ کا اپر والا حصّہ چوس رہی تھی

اور وہ میری چوت میں انگلی کر رہے تھے  اور اپنے منہ سے ہا ہا ہا کی آوازیں نکال رہے تھےانکل کی انگلی جب میری چوت میں جاتی تھی تو مجھے بہت  مزہ آتا تھا
ہم کوئی بیس منٹ تک یہی کرتے رہے  پھر ایک دم میرا منہ کسی گرم گرم چیز سے بھر گیا

میں نے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی مگر انکل نے میرے سر کو مضبوطی سے انپے لنڈ کی طرف دبایا کے ان کا لنڈ میرے حلق میں جا گھسسا  میرا سانس بند ہونے لگا

اور آنکھیں باہر نکل آئیں کوئی تین منٹ کے بعد انہوں نے مجھے چھوڑا تو میری سانس میں سانس آئی  میں تیزی سے غسل خانے کی طرف بھاگی اور جب شیشے میں دیکھا

تو میرا منہ کسی سفید سفید لیس دارملائی جیسی چیز سے بھرا ہوا تھا میں منہ دھو کر واپس آئی تو انکل اسی حالت میں لیٹے ہووے تھے  اور ان کا لنڈ بھی سفید چیز سے لتھڑا ہوا تھا
انکل بولے میری جان عرفانہ تم بہت  اچھی ہواب میرے لنڈ کو اپنی زبان سے صاف کر دوتو میں نے بغیر کی حجت کے ان کے لنڈ کو اپنی زبان سے صاف کیا پھر انکل اٹھ کر غسل خانے میں گئے

تو میں نے بھی اپنی شلوار پہن لی جب انکل واپس آیے تو وو ننگے تھےمیں نے پوچھا  انکل یہ سفید سفید کیا چیز تھی؟انکل ہنستے ہووے بولےجانی اس کو منی کہتے ہیں تم کو کیسی لگی

  تمھارے تو منہ میں گئی تھی میں بولی انکل کوئی مزہ نہیں تھا  پر گرم گرم تھی پھر انکل میرے ساتھ بستر پر لیٹ گئےرات کافی ہو چکی  تھی اور مجھے لیٹے ہی نیند آ گئی

صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کے میری شلوار اتری ہوئی تھی اور انکل میرے ساتھ لپٹے ہویے تھے اور ان کا لنڈ میرے چوتڑوں میں تھا انہوں نے میری قمیض کے بٹن کھولے ہوئے تھے

اور میری چوچیوں کو مسل رہے تھے مجھے بھی مزہ انے لگا ان کا لنڈ میری گانڈ کے چھید پر تھاان کا لنڈ موٹے ہونے کی وجہ سے میری تنگ گانڈ میں نہیں جا رہا تھا

اور مجھے بھی تکلیف سی ہو رہی تھی پھر ایک دم انکل نے میری گردن موڑ کر اپنے منہ کے پاس کر لی اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگےساتھ ساتھ ان کے دھکوں کی شدّت میں تیزی آ گئی ان کی انگلی میری چوت کے اندر تھی انکل کے منہ سے اف ہاہاہا کی آوازیں نکل رہی تھیں

پھر مجھے لگا کے میری گانڈ گرم گرم پانی سے بھر گئی ہے انکل بھی سست ہو گئے تھے اور مجھ سے الگ ہو کر اپنی آنکھیں بند کیے لیٹے ہوئےتھےمیں اٹھ کر غسل خانے گئی

اور کموڈ پر بیٹھ کے پیشاب کیا  تو میں نے دیکھا کے میری گانڈ انکل کی منی سے لتھڑی ہوئی تھی  میں نے اپنے اپ کو اچھی طرح پانی سے دھویا کپڑے بدلے

اور پھر ناشتہ بنانے نیچے آ گئی انکل بھی نہا کر ناشتے کے لیا نیچے آ گئے  ہم دونوں نے ناشتہ کیا  انکل نے مجھے پانچ سو روپہ کا ایک نوٹ دیااور پھر انکل مجھے اسکول چھوڑتے ہوئے اپنے دفتر چلے گئے

میں اسکول میں سارا وقت پچھلی رات کے مطالق سوچتی رہی اور تصور میں اپنی آپ کو انکل کی بیوی کے روپ میں دیکھتی رہی دوپہر کو اسکول کے بعد میں گھر پہنچی  تو ابا اور امی واپس نہیں آے تھے

میں چینی  سے انکل کا انتظار کرنے لگی انکل تین بجے دفتر سے آے  وہ بازار سے کھانا بھی لاے تھے  ہم دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا اور اس کے بعد کافی دیر تک باتیں کرتے رہے

انکل نے مجھے خوب پیار بھی کیاپھر مجھے امتحان کی تیاری کرانے لگےشام کو ابا اور سب لوگ واپس آ گئے اورمجھے ان کے آنے کا بہت دکھ تھا میرا خیال تھا کہ انکل آج رات کچھ بہت ہی نیا کریں گے

مجھے جس بات کی بے چینی تھی وہ یہ کہ کیا میری چوت میں  ان کا لن جا پائے گا اتنا بڑا لن کیسے اندر جا سکتا ہے چوت تو ایک دم سیل پیک تھی کیسے لوگ اس میں لن دال لیتے ہیں اور انکل میری گانڈ میں کیوں لن ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے

Pakistani sex stories me different story

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top