پاکستانی سیکس سٹوریز جب رشتے بدل گئے

(pakistani sex stories jab rishte badal gae)

Pakistani sex stories me life ki real story

پاکستانی لڑکی کی سیکسی کہانی ۔ دوستوں  یہ کہانی ہم کو فیضان صاحب نے بھجوائی ہے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد ہم اس کو

شائع کر رہے ہیں اگر آپ کے پاس بھی کوئی کہانی ہے تو بھجوا دیں۔شکریہ

پاکستانی لڑکی کی سیکسی کہانی ۔ دوستوں آپ کی خدمات میں ایک آپ بیتی پیش کر رہی ہوں  میرا نام عرفانہ ہے اور میں جوان سیکسی بہت خوبصورت لڑکی ہوں سال ہے

مگر یہ داستان اس وقت کی ہے جب میں ٹی ایج میں  تھی اورنئی نئی جوان ہوئی تھی شاید اپ اس آپ بیتی پر یقین نہ کریں لیکن جو میں لکھ رہی ہوں وہ حرف با حرف ایک سچی داستان ہےبس نام تبدیل کر دئیے  ہیں وہ ایک مجبوری ہےمیں اپنا اور اپنی فیملی کا تعارف کرا دوں میرے ابا کا نام ماجد ہے میری امی کا نام راحیلہ ہے

میری چھوٹی بہن کا نام فرزانہ ہے اور چھوٹا بھائی امجد ہے ہم راولپنڈی کے پاس چک شہزاد میں رہتے ہیں میرے والد کی ایک دوکان راجہ بازار میں تھی جو ہمارے گھر سے کافی دور تھی اور ابا صبح سویرے جاتے تھے اور رات کو دیر سے گھر واپس آتے تھے

ہم تینوں بہن بھائی ایک ہی اسکول میں پڑھا کرتے تھے ہمارا گھر راول ڈیم کے پاس تھا اور جب کبھی راول ڈیم میں پانی بھر جاتا تھا تو ڈیم والے ڈیم کے دروازے کھول دیا کرتے تھے

اور وہ سارا پانی ہمارے گھر کے پاس والی ندی سے گزرتا تھا ورنہ وہ ندی خشک رہتی تھی اور وہاں گاؤں کے سب لوگ کھیلاکرتے تھے ہمارا گھر ندی کے ساتھ ایک اونچی جگہ پر تھا اور اس کے بعد ندی اور اسے آگے کھیت تھے  ہم کوئی امیرنہیں  تھے بس ایک لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے ہماری امی بہت خوبصورت تھیں

اور ہم سب بہن بھائی بھی اپنی امی کی طرح بہت خوبصورت تھے ہمارے گھر میں تین کمرے تھے ایک اوپر اور دو نیچے  صحن کافی بڑا تھا اور صحن میں لیٹرین اور کچن تھاتو دوستوں اب میں اصل کہانی کی طرف آتی ہوں

اس وقت میں جوان لیکن ٹین  ایج میں تھی  کہ  ایک شام ہمارے ابا کے ایک جگری دوست جن کا نام راجہ پرویز تھا وہ ہمارے گھر آے انکو جاب کے سلسلہ میں  کچھ عرصہ یہاں رہنا تھا اور ابا ان کو اپنے گھر لے آئے راجہ انکل کی عمر کوئی لگ بھگ پچاس سال کی تھی مگر وہ ایک بہت  اچھی شکل اور ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے اور وہ رنڈوے تھے

پہلے تو پرویز انکل نے ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہنے سے انکار کیا پر ابا کے پرزور اصرار پر وہ مان گئے  ابا نے ان کو اوپر کا کمرہ خالی کروا دیا اور ہم تینوں بہن اور بھائی نیچے شفٹ ہو گئے

انکل پرویز سے ہم جلدی ہی گھل مل گئے تھےوہ صبح آٹھ بجے آفس جاتے تھے اور دوپہر کو دو بجے  واپس آتے تھے اس کے بعد وہ گھر پر ہی رہتے تھےابا تو رات کو دیر سے آتے تھے اور میں سارا ٹائم انکل کے ساتھ رہتی تھی میں ٹین ایج مٰں تھی لیکن جسمانی طور پہ بڑی لگتی تھی کیونکہ  میرے بوبز بہت خوبصورت اور نمایاں تھے

میری بہن فرزانہ اور بھائی امجد بھی قد میں لمبے اور صحتمند تھےاسی طرح امی بھی بوہت سیکسی  اور بھرے بھرے  جسم کی مالک تھیں  ابا اور امی کی عمر میں فرق تھا

اسی وجہ سے ابا اور امی کے درمیان ازواجی تعلق نا ہونے کے برابر تھااسی طرح دن گزرتے رہے اور امی بھی ہماری طرح انکل پرویز سے مانوس ہو گیں پھرایک دن شام کو انکل پرویز نے امی کو بیس  ہزار روپیہ دیا

 بولےراحیلہ تم یہ پیسے رکھ لو  اور ہر مہینے مجھے سے دس  ہزارروپے لے لیا کرو  لیکن ماجد کو نہ بتاناامی بولیں  نہیں پرویز بھائی آپ ہم پر کوئی بوجھ نہیں ہیں  انکل بولے  میں ناراض ہو جاؤں گا اگر تم نے یہ پیسے نہیں رکھےان کے اصرار پر امی نے پیسے رکھ لیے اور ابا کو نہ بتانے کا وعدہ بھی کر لیا

اس کے بعد انکل پرویز نے امی کے لیے اور ہمارے لیے نئی  نئی چیزیں لانی شروع کر دیں ایک دن انکل ابا سے بولے کے عرفانہ اب بڑی کلاس میں آ گئی ہے تم اس کو مرے ساتھ  والےکمرے  والےشفٹ کر دو

میں اس کو رات کو پڑھا دیا کروں گا ابا نے خوش ہو کر ایک دم  حامی بھر لی  میری بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں  تھا  ساتھ والے میرے کمرے اور انکل کے کمرے ویسے تو الگ تھے

لیکن ان کے درمیاں اس وقت دروازہ نہیں تھا دروازہ توٹ گیا تھاا ور ابا نے سوچا کسی دن نیا لگوا دونگا اور ا سکو اتار کے سائڈ پہ رکھ دیا تھا یوں وہ ایک ہی کمرے والا سین بن گیا تھااور اس کے بعد میرا پلنگ انکل کے پلنگ ساتھ ہی سمجھوں  لگ گیا

انکل ایک گھنٹہ مجھے پڑھاتے تھے اور بعد میں میرے ساتھ باتیں کرتے تھے اور اکثر مجھے سینے سے لگا لیتے تھےاور بعد میں مجھے سویٹ دیتے تھے

اور کبھی دس روپیہ کا نوٹ  اور مجھے کہتے تھے کے کسی کو مت بتانامیں سویٹ اور پیسے کی لالچ میں کس کو نہیں  بتاتی تھی ایک رات انہوں مجھے سینے سے لگایا اور پھر میرے چوتڑوں کو خوب دبایا اور میرے ممے بھی دباے

مجھے بھی مزہ آیا بہت اس لیے میں ان کو نہیں روکاکافی دیر تک وہ مجھے دباتے رہےاور اس کے بعد انہوں نے مجھے پچاس روپے دیے اب میں خود انکل کے پاس رہنے کے بہانے تلاش کرتی تھی

پر امی کی وجہ سے موقع نہیں  ملتا تھاایک دن ابا نے بتایا کے وہ لاہور جا رہے ہیں ،امی بھی ان کے ساتھ تیار ہو گئیں  ابا بولے کے ہم سب چلتے ہیں انکل پرویز نے تو آفس کی وجہ سے انکار کر دیا

 میرے اسکول کے امتحان تھے بڑی کلاس تھی اس لیے میں بھی نہیں گئی  ابا،امی،فرزانہ اور امجد صبح ہی بس سے لاہور روانہ ہو گئے

میں اسکول اور انکل آفس چلے گئے  رات کو جب میں انکل کے پاس سونے گئی تو انہوں نے مجھ کو گلے سے لگا لیا اور پیار کرنے لگے  مجھے یہ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا انکل بہت سکون سے یہ سب حرکتیں کر رہے تھے

میں اور انکل صوفے پر بیٹھے ہوے تھے میں جسمانی طور ایک صحتمند جسم  خوبصورت ملائم  بدن رکھتی تھی بھرے بھرے گال ،ابھری ہوئی چھاتیاں  گدرائے ہوئے موٹے چوتڑ،گورا رنگ اور اوپر سے خوبصورت آنکھیں انکل نے مجھے سائیڈ سے لپٹایا ہوا تھا

ان کا ایک ہاتھ میری  نازک  سی کمر پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ میری ایک ران کو سہلا اور دبا رہے تھےپھر انہوں نے میری سیدھی ٹانگ اٹھا کر اپنے گھٹنوں پر رکھ دی

اب وو مرے چوتڑوں کو بری طرح دبانے لگے اور اپنی انگلی میری گندی جگہ (گانڈ ) میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے  مجھے درد ہوا تو میں ان سے بولی  انکل نا کریں مجھے بہت درد ہوتی ہے اور وہ بولے تم شلوار اتار دو پھر درد نہیں ہو گیاور مسکرا دیئے اور نا جانے کیوں میں نے شلوار  اتار دی

مزید اگلی قسط میں جوکل  شائع ہو جائے گی

Pakistani sex stories me different story

What did you think of this story??

Comments

Scroll To Top